نوجوان مظاہرین پر جبری کارروائی اور قید، بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا حکمنامہ جاری

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) نوجوان مظاہرین پر جبری کارروائی اور جیل میں قید نابالغ افراد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ نے بڑا حکمنامہ جاری کر دیا ہے جو حیران کن ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کے تشدد کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ درج ایف آئی آر زپر کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی مرکز سمیت7ریاستوں کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے جبکہ حکام کو مظاہروں میں شریک افراد کا ڈیجیٹل اور ذاتی ڈیٹا محفوظ رکھنے اور عوام کے سامنے ظاہر نہ کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں درخواست گزاروں نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جن پر الزام لگایاگیا کہ انہوں نے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت اور پیلٹ گنز کا استعمال کیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور جوابدہی بھی طے ہونی چاہیے، طلبہ نے اپنے مطالبات پر احتجاج کیا تھا اور احتجاج کا حق آئینی ہے۔ بھارتی چیف جسٹس نے کہا مظاہروں میں ہمیشہ کچھ شرپسند عناصر اپنے مقاصد کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ انتہائی محتاط الفاظ میں بھی کہا جائے تو آزادانہ تحقیقات کی ضرورت واضح طور پر نظر آتی ہے اور اس کے لیے ایک اعلی سطح کی کمیٹی یا ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے گی۔



