اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو فرار ہونے سے روکنے کیلئے کونسا گھنائونا منصوبہ بنایا؟

اسرائیل (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی حکام نے فلسطینی قیدیوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لئے کونسا گھنائونا منصوبہ بنایا؟ اس حوالے سے تمام تر تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اسرائیل کی ماحولیاتی تحفظ کی وزیر ایدت سلمن نے مگرمچھوں کی درجہ بندی میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت انہیں سکیورٹی مقاصد، جیسے جیلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دسمبر میں اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر نے فلسطینی قیدیوں کے لیے قائم جیلوں کے اطراف خندقیں کھود کر ان میں مگر مچھ چھوڑ دینے کی تجویز دی تھی۔ نئی درجہ بندی کے تحت مگرمچھوں کو جنگلی جانوروں کے بجائے پالے گئے جنگلی جانور (cultivated wild animal) کے زمرے میں شامل کر دیا گیا ہے۔
اس تبدیلی کے بعد منظور شدہ سکیورٹی اداروں کو حکومتی اجازت اور ماحولیاتی حکام کی شرائط کے تحت سکیورٹی مقاصد کے لیے مگرمچھ رکھنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان سکیورٹی اداروں میں اسرائیلی محکمہ جیل بھی شامل ہے جو براہ راست بن گویر کے ماتحت کام کرتا ہے۔ میڈیا کے مطابق بن گویر جنوبی اسرائیل میں واقع کیتزیوت جیل کی حفاظت کے لیے مگرمچھ استعمال کرنا چاہتے ہیں جہاں زیادہ تر فلسطینی قیدی رکھے جاتے ہیں۔



