صحت

مچھر کن افراد کو زیادہ کاٹتے ہیں؟ سائنسدانوں نے بتا دیا

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مچھر کن افراد کو زیادہ کاٹتے ہیں؟ اس حوالے سے جرنل نیچر میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں نے بڑی وجہ بتا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق جرنل نیچر میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھر سب سے پہلے لوگوں کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ کو علم نہ ہو ہم سب ہی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہر سانس کے دوران خارج کرتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دیکھنے کے بعد جب مچھر قریب آتے ہیں تو پھر کسی فرد کی منفرد بو اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کہ وہ مچھر کا شکار بنیں گے یا نہیں۔ محققین نے ایسے درجنوں جِلدی کیمیکلز کو شناخت کیا جو مچھروں کے رویوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، جن میں سے ایک 1-octen-3-ol نامی مرکب بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ مرکب جِلد کی چکنائی سے بنتا ہے اور مچھروں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش ثابت ہوتا ہے۔

برسوں تک خون کے گروپ کو مچھروں کے لیے آپ کو مقناطیس بنانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ او بلڈ گروپ کے حامل افراد کو مچھر زیادہ کاٹتے ہیں مگر اب سائنسدانوں نے اس خیال کو مسترد کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کسی فرد کی جسمانی بو اس حوالے سے خون کے گروپ سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی جِلد میں پائے جانے والے بیکٹیریا ایسے کیمیائی عناصر تیار کرتے ہیں جو ہر فرد میں الگ ہوتے ہیں۔ یعنی کچھ افراد ایسی بو زیادہ خارج کرتے ہیں جو انہیں دیگر کے مقابلے میں مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتی ہے اور جینز اس عمل میں اثرانداز ہوتے ہیں۔ امریکا کی راک فیلر یونیورسٹی کی ایک پرانی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد کی جِلد میں carboxylic ایسڈز کی سطح زیادہ ہوتی ہے، وہ مچھروں کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ حاملہ خواتین، موٹاپے کے شکار افراد اور ایسے افراد جو جسمانی طور پر زیادہ سرگرم ہوتے ہیں، وہ زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں، جس کے باعث مچھروں کے لیے انہیں تلاش کرنا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button